Affiliates

Shaheed Aajohi Ali Sheer Kurd ki Yaad Mein

View previous topic View next topic Go down

Shaheed Aajohi Ali Sheer Kurd ki Yaad Mein

Post  بامسار بلوچ on Sat Sep 24, 2011 5:48 pm


کیا دل تھا دھڑکنوں کی تلاطم میں سوگیا کیا عقل کا چراغ تھا ، خاموش ہوگیا



سمجھمیں نہیں آتا کہاں سے شروع کروں ؟کیوں کہ لکھنا وہ بھی ایسے عملی انسان کے بارے میں کسی امتحان سے کم نہیں ، شاید آُ پ محسوس کریں گے کہ میں جذباتی ہوگیا ہو ٹھیک کیوں کہ میرا ماننا ہے کہ جو لوگ جذباتی نہیں ہوتے وہ جذبات کی گہراءی کو بھی سمجھ نہیں پاتے ، اور پھر ڈاکٹر اللہ نذر کے بقول ہر نظریہ ہر تخلیق ہر عمل کے پیچھے ایک جذبہ کارفرما ہوتا ہے اور اپنے منزل کو حاصل کرنے کے لیے پاگل پن کی حد تک جنونیت کی حد تک جذباتی ہوناچاہیے ۔یہی جذباتی پن وطن کے عظیم سپوت بلوچ سرمچاروں میں پایا جاتا ہے اور یہی وہ جذباتی پن ہے جس نے دشمن کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔

بابو علی شیر کرد 13جنوری1975 کو مچھ بولان میں پیدا ہوءے ،ابتداءی تعلیم مڈل بواءز ہاءی سکول مچھ سے حاصل کی، میٹرک کوءٹہ کہ ایک سکول سے پاس کیا اور مزید تعلیم ایف ایس سی اور بی ایس سی کوءٹہ کے ساءنس کالج سے حاصل کی ، ماسٹر ان پبلک ایڈمنسٹریشن بلوچستان یونیورسٹی سے کی قانون کی تعلیم ایل ایل بی لاء کالج کوءٹہ سے حاصل کی ۔ آپ شروع سے بی ایس او کا حصہ تھے آپ سعید فیض،منظور بلوچ،رحیم بلوچ کے دور سے بی ایس او میں رہے ،امان بلوچ کے چیرمین شپ کے دوران بی ایس اومینگل کے سنٹرل کمیٹی کے ممبر بنے بعد ازاں نظریاتی اختلافات کی بنیاد پر بی ایس او امان سے مستعفی ہوگءے۔ جس وقت آپ بلوچستان یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے تو بلوچ طالب علموں کا خاص خیال رکھتے،جو شدید تنگ دستی کا شکار ہوتے ان کی مدد اپنے بساط کے مطابق کرتے اور دوسرے دوستوں کو بھی یہی تلقین کرتے ۔


۔1998 سے آپ بلوچ مزاحمت تحریک کا حصہ بنے، آپ فکری طور پر بابا خیر بخش مری کو اپنا فکری رہبر تسلیم کرتے تھے ۔آپ نے ساتھیوں کے ساتھ اسٹڈی سرکلز، مطالعہ، لیکچر بحث و مباحثے کو جاری رکھا ،آپ بولان ،مارگٹ نارواڑ،سبی تلی و دیگر مقامات پر تنظیمی امور سر انجام دیتے تھے ، چھ ماہ کے عرصے تک آپ مکران میں ڈاکٹر خالد ،دلجان بلوچ کے ساتھ مسلح کارواءیوں کا حصہ بنے رہے ،آپ زیادہ تر محاذ پر ہوتے اور کوءٹہ آنے سے گریز کرتے کیوں کے آپ کو خبر تھی کہ دشمن آپ کا پیچھا کر رہا ہے ۔ عملی دوستوںکے ساتھ بحث ہوتی ، سوال جواب شروع ہوتے ،لڑاءی جھگڑے ،ہنسنا رونا ،مستقبل کے اندیشے خدشے جیسے موضوعات زیر بحث آتے اور بابو سیاہ چاءے کی پیالی تھماتا اور پرسکون مسکراہٹ بھکیرتا ، آپ کا مطالعہ بہت گہرا ہوتا مارکسزم سے لے کر سماجی مساءل ، مسلح جدوجہد سے لے کر عالمی سیاست ۔ دوست جب بھی لیڈر پرستی میں الجھ جاتے عطااللہ مینگل و میر غوث بخش بزنجو کے خلاف باتیں کرتے تو آپ سخت تنگ ہوجاتے بالکل اکتا جاتے اور کہتے کہ پہلے منزل کا تعین کرو اور پھر اپنا عمل دیکھو ، غوث بخش بزنجو ہو یا عطا اللہ مینگل ان کا فیصلہ بلوچ عدالت کرے گی تم لوگ اپنے آج کو قوم کی کل کے لیے قربان کرو اگر مخلص ہو ورنہ تاریکیوں کا شکار بننے کے لیے تیار ہوجاءو ۔ بابو دوستوں کو مطالعے کی ترغیب دیتے کہ افتادگان خاک کا مطالعہ کرو مظلوم عوام اور تعلیم پڑھو ،بلوچ تاریخ کا مطالعہ کرو ، انگریز نے ہمیں کیسے تقسیم کیا اور کیوں ان حقاءق کو جانو ۔آپ بلوچ ریاست کے مستقبل کے بارے میں بھی دوستوں سے بحث کرتے ، اقتصادی نظام کیسا ہونا چاہیے تعلیمی نظام کیسا ہوگا وغیرہ وغیرہ آپ کہا کرتے تھے کہ جی چاہتا ہے ان موضوعات پر لکھوں لیکن وقت کی قلت ہے کیونکہ تنظیمی امور بھی آپ کو سرانجام دینے ہوتے تھے ۔بابو ایک گوریلا لیڈر، وکیل ، شاعر تھے ،آپ براہوی اور بلوچی میں شاعری کرتے آپ مختلف موضوعات پر مضامین بھی لکھتے ،جب آُ پ کی طبیعت ناساز ہوءی تو آپ کوءٹہ تشریف لاءے۔اکیس ستمبر کی شام چھ بجے آُپ کو آپ کے رشتہ دار کے گھر سے ریاستی خفیہ ادارے مخبر کی نشاندہی پر ہتھیار کے زور پر آپ کو اغوا کرنے کے لیے آءے اس وقت آپ مجید ثانی کی طرح مقابلہ کرنا چاہتے تھے لیکن ہتھیار نہ ہونے کے باعث آپ کو اغوا کرلیا گیا آپ نے خوب مزاحمت کی لیکن دشمن نے مواقع فراہم نہیں کیا کیوں کہ کثیر تعداد میں ریاستی اہلکار موجود تھے ، تین دن بعد آپ کی مسخ شدہ لاش خضدار کے علاقے کلی سلطان ابراہیم چوک سے ملی ،آپ کے جسم کا کوءی حصہ ایسا نہ تھا جسے تکلیف سے دوچار نہ ہونا پڑا ہو ، چہرہ اور سر پر بجلی کے کرنٹ،پیروں کو ویلڈنگ والی مشین سے جھلسا دیا گیا تھا ، دونوں ہاتھ توڑ دیے گءے تھے ،جگہ جگہ سگریٹ کے داغ اور گولیوں کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔آپ کو مچھ بولان میں عزت و احترام کے ساتھ بلوچ نوجوانوں کی کثیر تعداد قومی پرچم کے ساءے تلے اشکبار آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا ۔ وادی بولان کا شہزادہ ہمارا عظیم بابو علی شیر کرد آج سو رہا ہے اپنے مادر وطن کی آغوش میں بابو آپ تو ہمیشہ کہتے کہ “رخصت اف اواران سنگت” لیکن اچانک رخصت کیے بغیر چلے گءے بابو ہمیں آپ کی ضرورت ہے ہم جب بھی مایوس ہوتے تو آپ کہتے کہ “غم کپہ بو زیبا ،منزل خڑک ء” ۔

اور اب محفلیں کون سجاءیں گا؟ کون عملی سنگتوں کے ہونٹوں پر خوشیاں بکھیرے گا؟آپ کے نظریاتی سنگت آپ کے ساتھ گذارے ہوءے لمحات کو کبھی نہیں بھلا سکتے کمانڈر وہ جو بھی ہیں تیرے مرہون منت سے ہیں ، قومی فکر کی تربیت ، قاءد ڈاکٹر اللہ نذر کی قومی سیاسی پروگرام براءے راہ عمل و فکر کا درس اور نشان منزل راہ کو وہ کبھی فراموش نہیں کریں گے ۔ آپ مزاحمتی ساتھیوں کو لیکچر ، بحث و مباحثہ اور دیگر تنظیموں کی بابت درس دیتے ، دوران گوریلا جدوجہد بھی اسٹڈی سرکلز ہوتے ،بلوچی و براہوی شاعری بھی کرتے اور مختلف اخبارات میں قومی و فکری حوالے سے آرٹیکل بھی لکھتے ،جب دشمن خرما کی طرح آپ کے پیچھے اور دیگر بلوچ نوجوانوں کے پیچھے پڑا اور پانی کی طرح پیسہ بہانے لگا ایسے میں علی شیر کرد جیسے لال جواہر موتیوں کو سنبھال کر رکھنا مشکل ہوگیا تو دوسری جانب چند بے ضمیروں نے چند کوڑیوں کی عوض قبضہ گیر کی دلالی شروع کردی کیونکہ دشمن جانتا ہے کہ اس کے پاس آخری موقع ہے ،اسی لیے وہ بلوچ فرزندوں کو اغوا کرکے شہید کرتا جارہا ہے لیکن بلوچ سرمچاروں کے لیے یہ ہرگز مایوسی کا موقع نہیں بلکہ ایک نیا لاءحہ عمل طے کرنے کا موقع ہے ۔ عملی انسان چونکےشعوری طور پر جہد سے وابستہ ہوتے ہیں اس لیے وہ جانتے ہیں کہ آزادی بغیر قربانیوں کے حاصل نہیں کی جاسکتی بلکہ بغیر قربانیوں کے آزادی کا تصور گناہ ہ

Baloch Liberation Movement
avatar
بامسار بلوچ
Admin

Posts : 1335
Join date : 2011-01-05
Age : 21
Location : PanjGur Balochistan

Back to top Go down

View previous topic View next topic Back to top


 
Permissions in this forum:
You cannot reply to topics in this forum