Affiliates

SHAHEED ABID RASOOL BAKHSH

View previous topic View next topic Go down

SHAHEED ABID RASOOL BAKHSH

Post  بامسار بلوچ on Sat Sep 03, 2011 9:04 am


بلوچستان جل کر کندن بن رہا ہے، دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک طرف انسان اور انسانیت تھی ،جو بھوکی بھی تھی اور سستی بھی ،ایک طرف عروج تھا دوسری طرف زوال،ایک طرف قوم بن رہےتھے اور دوسری طرف کہی اقوام مٹ رہے تھے
قومیں مٹتے رہے بنتے رہے،پھر عیساہیت کیلنڈر نے کروٹ بدلی۔ اکیسویں صدی شروع ہوہی ، جن کو مٹنا تھا وہ مٹ گہے،جن کو بننا تھا وہ بن گہے۔ اس پورے عمل میں انسان نے انسانیت کی تک و دو بھی نہیں چھوڑی.
لیگ اف نیشن کی ٌاخری رسومات پہ اقوام متحدہ وجود میں ٌاہی،اب پوری انسانیت کا کوہی خدمت گار تھا،جو ہر مرد عورت، بوڑھے جوان اور بچے ہر کسی کا خدمت گار تھا،کوی فرد نہیں مٹ سکتا تھا قومیں تو پھر دور کی بات تھی۔
مگرلاکھوں کی تعداد میں افراد مٹ گہے اور سینکڑ وں کی تعداد میں قومیں،1945 سے 2011 تک وجود اپنے ہونے سے دستبردار نہیں ہو سکا۔ دس سال پہے جس قوم کے دانشور خلیل جبران کے کردار کی طرح صرف ازادی کا خواب دیکھ سکتے تھے اج س قوم کے بچے ازادی کے لیے لہو بہا رہے ہیں، 8 اپریل 1955 کو کلشن پاروم میں جنم لینے والے بچے کا نام نجانے کیوں اس کے والدین نے عابد رکھا، عابد اپنی زمین کی عبادت میں اس قدر عابد تا کہ ” عابد مان “ہو گیا۔
23 جنوری2011 کو پنجگور کے ٹاون ایریا سے سکیورٹی فورسز نے چار نوجوانوں کو ٌاغوا کر کے لا پتا کر دیا۔ ان میںسے تیں طالب علم تھے،ایک گورنمنٹ ہاہی اسکول پروم کے دسویں جماعت اور دوسرے دو گورنمنٹ ڈگری کالج پنجگور میں فرسٹ ایر کے طالب علم تھے۔چوتھا شخص کوہی چھوٹا کاروبار کرتا تھا
27 جنوری2011 کو لیویز اہلکاوں کو دو ٌافراد کی بوڈیز ملی جن میں سے ایک عابد مزکورہ سکو ل کے دسویں جماعت کا طالب علم تھ ا اور دوسرا ناصر دگرزہی ایک ادنی کاروبارکا مالک تھا۔ ان کے ساتھ لاپتا ہونے والے دو دوسرے ساتھیعابد سلیم اور مہراب عمر تا حال لا پتا ہیں۔ جن کے ماں باپ اب تک ان کی راہ تک رہے ہیں۔ ( یہ لکھنا ہی تھا کہ اچانک ان کی شہادت کی خبر ٌا گہی)
انسانی حقوق کی پاسدری اپنی جگہ! بچو ں کا عالمی دن بنانے والے بھی عابد کی شہادت پہ خاموش تھے ۔ شاہد اس کی وجہ “بلوچ کا غیر انسان” ہونا ہے، ورنا عابد بھی دنیا کے دوسرے بچوں کی طرح تھا۔ اسکے بھی کھیلنے کودنے کے دن تھے، اسکے بھی خواب تھے، وہ بھی انسان تھا۔ عابد کے والد”رسول بخش”متوسط بلوچ گھرانے کے فرد ہیں۔ چھ بیٹوں کے باپ کی کمر ایک بیٹے کی لاش نے اتنی کمزور کر دی کہ وہ ساٹھ سالہ بز رگ جو پوری زندگی ،زندگی پالنے میں مصروف تھا،اب وہ دو قدم بھی چل نہیں سکتا۔
سکول سے 16 نومبر 2010 کو فارغ ہوہے تین ، چار ماہ کی چھٹیاں اتی ہیں، باقی قومیں اس گیپ کو (پریپ) کہتے ہیں، مگر! کالنسٹ نے بلوچ کو ایسی جگہ پہ رکھا ہے جہاں بلوچ بچہ (پریپ) کے مہینوں میں مو قع پا کر محنت مزدوری کرتا ہے ۔ عابد سکول سے فارغ ہوتے ہی ایران کے بارڈر پر محنت مزدوری کرتا رہا۔ کچھ پیسے کما کہ پھر گھر ٌا گیا۔ اب وہ پنجگور جانا چاہتا تھا تاکہ اپنے لیے کتابیں خریدے اور باقی دنو ں میں بیٹھ کر امتحانات کی تیاری کرے جو اب قریب سے قریب تر ہوتے جا رہے تھے۔
22 جنوری 2011 کی شام پروم سے اپنے کزن مہاب عمر کےساتھ پنجگور اپنے وت ناصر کے پاس چلا گیا۔ایک دن بعد لاپتا ہو گیا اور 27 جنوری 2011 کو اس کی لاش مل گہی۔ اس رویے کو ہم جس نام سے بھی پکاریں یہ رویہ انسانی رویہ نہیں ہے، کیونکی کالونیلیزم کی باگ دوڑ میں پہلے پہل کالوناہزر اور کالونسٹ انسانیت اور انسان کے پوشاک سے نکل ٌاتے ہیں ، ( کسی کی ٌازادی کو نگلنا انسانیت تو نہیں
کالوناہزر تو مجبورا پوشاک نہیں پہنتا کیونکہ غیر انسان کے ساتھ انسانیت کرنا بھینس کے اگے بن بجانا ہے ۔ہمیں تو حیرت ہوتی ہے کہ اج ساٹھ برس بعد
پا کستانی کالناہزر پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پہ ہ پوچھتے رہتے ہیں کہ “بلوچستان کیوں جل رہا ہے ؟”
تم کالونسٹ ہو میں کالوناہزڈ ہوں،میں اور تم جنگ لڑ رہے ہیں، بلوچستان جل کر کندن بن رہا ہے، تم تو صرف جلا رہے ہو ٌاج کے بعد تمھارہ وجود بھی نہیں رہے گا اور میں ڈیکالوناہزیڈ ہو جاوں گا
avatar
بامسار بلوچ
Admin

Posts : 1335
Join date : 2011-01-05
Age : 21
Location : PanjGur Balochistan

Back to top Go down

View previous topic View next topic Back to top


 
Permissions in this forum:
You cannot reply to topics in this forum